رات کے 3:12 بج رہے ہیں۔
گھر میں مکمل خاموشی ہے۔
ہر طرف سکون ہے۔
اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
چند لمحوں کے لیے آپ چھت کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔
سمجھ نہیں آتا…
نیند کیوں ٹوٹ گئی؟
آپ آہستہ سے کروٹ بدلتے ہیں۔
پھر دوسری۔
آنکھیں بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن نیند جیسے کہیں کھو گئی ہو۔
آخرکار آپ گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں۔
3:12 AM
دل میں ایک ہی خیال آتا ہے…
“پھر سے؟”
کچھ دیر بعد شاید دوبارہ نیند آ بھی جائے۔
لیکن صبح جب الارم بجتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے پوری رات آرام ہی نہیں کیا۔
اگر یہ کیفیت آپ کے ساتھ بھی بار بار پیش آتی ہے تو یقین کریں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔
بہت سے لوگ سونے میں مشکل محسوس نہیں کرتے، بلکہ اصل مسئلہ رات کے درمیان بار بار جاگ جانا ہوتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر بار رات کو آنکھ کھلنے کا مطلب کسی سنگین بیماری کا ہونا ضروری نہیں۔
اکثر اوقات ہماری روزمرہ عادتیں، ذہنی دباؤ یا بے ترتیب معمول خاموشی سے ہماری نیند کے معیار کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ روزمرہ زندگی میں کی جانے والی چند چھوٹی تبدیلیاں وقت کے ساتھ نیند کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
رات میں ایک بار جاگ جانا ہمیشہ مسئلہ نہیں ہوتا
کبھی کبھار رات کے دوران مختصر وقت کے لیے آنکھ کھل جانا ایک عام بات ہے۔
بعض اوقات تو ہمیں صبح اس کا احساس بھی نہیں رہتا۔
اصل مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب یہ بار بار ہونے لگے، یا دوبارہ نیند آنا مشکل ہو جائے۔
ایسی صورت میں، چاہے آپ بستر پر سات یا آٹھ گھنٹے گزاریں، پھر بھی صبح خود کو مکمل طور پر تازہ دم محسوس نہیں کرتے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں صرف زیادہ گھنٹے سونے کی ضرورت ہے۔
حالانکہ بعض اوقات ضرورت زیادہ نیند کی نہیں، بلکہ بہتر معیار کی نیند کی ہوتی ہے۔
آپ کی شام کی عادتیں بھی رات کی نیند پر اثر ڈال سکتی ہیں
ذرا اپنی شام کے معمول پر غور کریں۔
کیا سونے سے پہلے بھی آپ موبائل، ٹیبلٹ یا ٹی وی استعمال کرتے رہتے ہیں؟
کیا آپ شام کے وقت چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس پیتے ہیں؟
کیا دن بھر کی مصروفیات اور ذہنی دباؤ رات تک آپ کے ساتھ رہتے ہیں؟
یہ عادتیں معمولی ضرور لگتی ہیں، لیکن خاموشی سے آپ کے جسم کو پوری رات سکون سے سونے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
اسکرینز کی روشنی، دیر سے کیفین کا استعمال، بے ترتیب سونے کا وقت اور مسلسل ذہنی دباؤ، یہ سب نیند کے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر عادتیں ایسی ہیں جنہیں آہستہ آہستہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اور یہی چھوٹی تبدیلیاں وقت کے ساتھ بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ذہنی دباؤ جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے تو ہمارا بلاگ کیا ذہنی دباؤ خاموشی سے آپ کا بلڈ پریشر بڑھا رہا ہے۔ ضرور پڑھیں
پرسکون رات کی شروعات سونے سے بہت پہلے ہوتی ہے
بہت سے لوگ صرف اس وقت کے بارے میں سوچتے ہیں جب وہ بستر پر لیٹتے ہیں۔
حقیقت میں اچھی نیند کی تیاری اس سے کئی گھنٹے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔
ہمارا جسم ایک باقاعدہ معمول کو پسند کرتا ہے۔
اگر آپ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی کوشش کریں تو وقت کے ساتھ جسم اپنا قدرتی نیند کا نظام بہتر انداز میں ترتیب دینا شروع کر دیتا ہے۔
اسی طرح سونے سے پہلے ایک پرسکون معمول بنانا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
مثلاً روشنی مدھم کرنا، موبائل ایک طرف رکھ دینا، چند صفحات پڑھنا یا چند منٹ خاموشی سے بیٹھ کر خود کو آرام دینا۔
یہ معمولی سی عادتیں جسم اور ذہن دونوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اب آرام کا وقت ہے۔
رات کی خراب نیند صرف رات تک محدود نہیں رہتی
نیند کا اثر صرف رات تک محدود نہیں رہتا۔
اس کے اثرات اگلے دن بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔
کام پر توجہ برقرار رکھنا مشکل لگ سکتا ہے۔
مزاج پہلے کی نسبت جلد خراب ہو سکتا ہے۔
میٹھی چیزیں یا بار بار کافی پینے کا دل چاہ سکتا ہے۔
اور دوپہر کے کھانے کے بعد غیر معمولی سستی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
اگر آپ نے بھی دوپہر کے کھانے کے بعد اکثر نیند یا تھکن محسوس کی ہے تو ہمارا بلاگ کیا دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد آپ کو بھی نیند آنے لگتی ہے؟۔ بھی ضرور پڑھیں
نیند، خوراک، ذہنی سکون اور روزمرہ عادتیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
جب ان میں سے ایک پہلو بہتر ہوتا ہے تو اکثر باقی پہلو بھی آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگتے ہیں۔
اپنے جسم کے اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کریں
کبھی کبھار رات میں آنکھ کھل جانا معمول کی بات ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر ایسا بار بار ہو، کئی ہفتوں تک جاری رہے یا اس کی وجہ سے آپ دن بھر شدید تھکن محسوس کریں تو مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ طبی وجہ کو جانچا جا سکے۔
ساتھ ہی اپنی روزمرہ عادتوں کی اہمیت کو بھی کم نہ سمجھیں۔
باقاعدہ سونے کا وقت۔
سونے سے پہلے کم اسکرین ٹائم۔
شام کے بعد کیفین سے پرہیز۔
اور روزمرہ ذہنی دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی کوشش۔
یہ فوری نتائج دینے والے نسخے نہیں ہیں۔
لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ یہی چھوٹی عادتیں آپ کے جسم کو بہتر اور پرسکون نیند کے لیے تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ایک ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ کے طور پر میرا یقین ہے کہ اچھی صحت کسی ایک بڑی تبدیلی سے نہیں بنتی۔
بلکہ روزانہ کیے جانے والے چھوٹے، مستقل فیصلوں سے بنتی ہے۔
بعض اوقات اچھی نیند کا آغاز اس لمحے سے نہیں ہوتا جب آپ بستر پر لیٹتے ہیں۔
بلکہ اس وقت سے ہوتا ہے جب آپ پورے دن میں اپنے جسم اور ذہن کا بہتر خیال رکھنا شروع کرتے ہیں۔
❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا رات میں ایک یا دو بار آنکھ کھل جانا معمول کی بات ہے؟
جی ہاں۔ بہت سے لوگوں کی رات میں مختصر وقت کے لیے آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ دوبارہ سو جاتے ہیں۔ اگر یہ بار بار ہونے لگے یا دوبارہ نیند آنا مشکل ہو جائے تو اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔
کیا ذہنی دباؤ رات کے دوران بار بار جاگنے کی وجہ بن سکتا ہے؟
جی ہاں۔ مسلسل ذہنی دباؤ جسم اور دماغ کو مکمل طور پر پرسکون ہونے نہیں دیتا، جس کی وجہ سے نیند کے دوران بار بار آنکھ کھل سکتی ہے۔
کیا سونے سے پہلے موبائل استعمال کرنے سے نیند متاثر ہو سکتی ہے؟
بہت سے لوگوں کے لیے ایسا ہو سکتا ہے۔ سونے سے پہلے زیادہ دیر تک اسکرین استعمال کرنا نیند کے قدرتی معمول کو متاثر کر سکتا ہے۔ سونے سے کچھ دیر پہلے اسکرین سے دور رہنا بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
رات میں بار بار جاگنے کی صورت میں ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر کئی ہفتوں تک مسلسل رات میں آنکھ کھلتی رہے، خرراٹوں کے ساتھ سانس رکنے کا احساس ہو، سینے میں درد، دن بھر غیر معمولی غنودگی یا کوئی دوسری تشویشناک علامات موجود ہوں تو مستند ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
تحریر: شمیم اختر
سرٹیفائیڈ ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ
.پبلک ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ لائف اسٹائل میڈیسن پروفیشنل

