Woman practising self-care and prevention through a calm healthy lifestyle

صحت مند رہ کر پیسے کیسے بچائے جا سکتے ہیں؟ بیماری سے پہلے احتیاط کیوں ضروری ہے

ایک لمبے عرصے تک میں بھی وہی مانتی رہی جو زیادہ تر خواتین مانتی ہیں۔
کہ صحت کی فکر تب کی جاتی ہے جب کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے۔
کہ دواؤں کے اخراجات، تھکن اور ذہنی دباؤ زندگی کا حصہ ہیں۔
اور یہ کہ اپنا خیال رکھنا ہمیشہ مہنگا ہوتا ہے۔

لیکن خواتین کے ساتھ برسوں کام کرنے اور ان کی کہانیاں سننے کے بعد مجھے ایک مختلف حقیقت سمجھ میں آئی۔

زیادہ تر صحت کے مسائل اچانک شروع نہیں ہوتے۔
وہ آہستہ آہستہ، خاموشی سے، ہماری مصروف زندگی کے پس منظر میں جنم لیتے ہیں۔
اور یہی حال مالی دباؤ کا بھی ہوتا ہے جو ان مسائل کے بعد آتا ہے۔

مجھے آج بھی ایک خاتون یاد ہیں جنہوں نے ہلکے سے کہا تھا
“مجھے نہیں لگا تھا یہ اتنا سنجیدہ ہے، میں بعد میں سنبھال لوں گی۔”

وہ اپنی صحت کی بات کر رہی تھیں۔
اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ “بعد میں” انہیں کتنا مہنگا پڑنے والا ہے۔

اسی لیے احتیاط صرف صحت کے لیے نہیں بلکہ مالی سکون کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔
جب ہم بروقت خیال نہیں رکھتے تو چھوٹے مسائل بڑے بن جاتے ہیں،
اور بڑے مسائل ہمیشہ بڑے خرچ لے کر آتے ہیں۔
لیکن جب ہم پہلے سے احتیاط کرتے ہیں تو ہم صرف اپنے جسم کو نہیں،
اپنے سکون اور اپنے پیسوں کو بھی محفوظ کر رہے ہوتے ہیں۔

احتیاط مشکل نہیں، بس نرمی اور تسلسل مانگتی ہے

میں اکثر اپنے کلائنٹس کو یاد دلاتی ہوں کہ احتیاط کا مطلب مکمل ہونا نہیں ہے۔
اس کا مطلب سخت اصول یا پیچیدہ روٹین نہیں۔

اس کا مطلب ہے مسئلے بننے سے پہلے ان کے آثار کو پہچان لینا۔
اپنے جسم کی بات سن لینا، اس سے پہلے کہ وہ چیخ کر ہمیں روکنے پر مجبور کرے۔

حقیقی زندگی میں احتیاط بہت سادہ ہوتی ہے۔
تھوڑی بہتر نیند۔
زیادہ تر وقت سادہ اور غذائیت سے بھرپور کھانا۔
ہلکی پھلکی جسمانی حرکت۔
اور یہ سمجھنا کہ دباؤ ہمارے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

یہ عادتیں شاید ابتدا میں بہت خاص محسوس نہ ہوں
لیکن وقت کے ساتھ یہ ہماری توانائی، ہارمونز، مدافعتی نظام اور جذباتی توازن کو محفوظ بناتی ہیں۔
اور جب جسم کو وقت پر سہارا ملتا ہے تو پیسے بھی خاموشی سے بچتے رہتے ہیں۔

احتیاط مہنگی نہیں ہوتی۔
صحت کو نظرانداز کرنا مہنگا پڑتا ہے۔

پی سی او ایس اور ہارمونل مسائل کے ساتھ جینے والی خواتین کے لیے ایک پیغام

جن خواتین سے میں ملتی ہوں  ان میں سے بہت  سی( پی سی او ایس)  ہارمونل عدم توازن کا سامنا کررہی ہوتی ہیں
کچھ کو تشخیص ہو چکی ہوتی ہے، اور کچھ کو ابھی تک معلوم بھی نہیں ہوتا۔
وہ بتاتی ہیں
کبھی توانائی بہت زیادہ، کبھی بالکل ختم۔
بلا وجہ وزن کا بڑھنا یا گھٹنا۔
موڈ میں اچانک تبدیلیاں۔
اور بار بار ہونے والے طبی اخراجات۔

میں ہر خاتون کو یہ بتانا چاہتی ہوں
آپ کا جسم خراب نہیں ہے۔
وہ بس آپ سے توجہ مانگ رہا ہے۔

صحیح طرزِ زندگی کے ساتھ، جیسے متوازن غذا، ذہنی دباؤ کا خیال، بہتر نیند
اور روزمرہ کی نرم عادتیں
ہارمونل توازن کو آہستہ اور قدرتی طور پر سہارا دیا جا سکتا ہے۔

یہ کوئی علاج نہیں۔
یہ ڈاکٹر کی جگہ نہیں لیتا۔
لیکن یہ اپنے جسم کے ساتھ تعاون کرنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔

اور جب جسم کو سہارا ملتا ہے تو ذہنی سکون آتا ہے
اور جب ذہنی سکون آتا ہے تو مالی دباؤ بھی ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔

میں ایک کوچ کے طور پر کیا مانتی ہوں

میں خوف پر مبنی صحت کے مشوروں پر یقین نہیں رکھتی۔
میں سخت قوانین پر یقین نہیں رکھتی۔
اور میں یہ بھی نہیں مانتی کہ صحت کا سفر مشکل یا بھاری ہونا چاہیے۔

میں نرمی کے ساتھ احتیاط پر یقین رکھتی ہوں۔
میں دباؤ کے بجائے آہستہ آہستہ بہتری پر یقین رکھتی ہوں۔

جب خواتین کو جج کرنے کے بجائے سہارا دیا جائے،
تو تبدیلی خود بخود آتی ہے۔
خاموشی سے۔
نرمی سے۔
اور دیرپا انداز میں۔

اور جب آپ شروع سے اپنی صحت میں سرمایہ کاری کرتی ہیں،
تو آپ صرف اپنے جسم کو محفوظ نہیں کرتیں،
آپ اپنے اعتماد،
اپنی خودمختاری،
اور اپنے مستقبل کو محفوظ بناتی ہیں۔

ایک یاد دہانی

صحت مند رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قیمت پر زیادہ جینا ہے۔
اس کا مطلب ہے بہتر جینا،
کم فکر کے ساتھ،
زیادہ سکون کے ساتھ۔

آپ کو کامل ہونے کی ضرورت نہیں۔
بس آغاز کرنے کی ہمت چاہیے۔

احتیاط اسی لمحے شروع ہوتی ہے
جب آپ خود کو چن لیتی ہیں۔


تحریر: شمیم اختر
سرٹیفائیڈ ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ
پبلک ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ لائف اسٹائل میڈیسن پروفیشنل