موبائل فون استعمال کرنے سے گردن میں درد محسوس ہونا ایک عام بات ہے، لیکن اکثر لوگوں کو اس کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ کافی دیر تک فون استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے بھی کافی دیر فون پر اسکرول کرنے کے بعد سر اٹھایا اور محسوس کیا کہ آپ کی گردن میں اکڑن یا بے آرامی ہے؟
ایسا اس وقت ہو سکتا ہے جب آپ پیغامات پڑھ رہے ہوں، ویڈیوز دیکھ رہے ہوں، کوئی مضمون پڑھ رہے ہوں یا سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہوں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ دن بھر فون استعمال کرتے رہتے ہیں، لیکن اس بات پر کم ہی توجہ دیتے ہیں کہ فون پکڑتے وقت ہماری گردن اور جسم کی پوزیشن کیا ہوتی ہے۔
ممکن ہے آپ کو فوراً اس کا اثر محسوس نہ ہو، لیکن جب آپ کافی دیر تک سر جھکا کر فون دیکھتے رہتے ہیں تو گردن اور کندھوں کے پٹھوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پٹھے تھکاوٹ، کھنچاؤ یا درد محسوس کر سکتے ہیں۔
موبائل فون استعمال کرنے سے گردن پر دباؤ کیسے پڑتا ہے؟
جب آپ موبائل دیکھنے کے لیے اپنا سر نیچے جھکاتے ہیں تو گردن بھی آگے کی طرف جھک جاتی ہے۔ اس حالت میں زیادہ دیر رہنے سے ان پٹھوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے جو آپ کے سر کو سہارا دیتے ہیں۔ جتنی دیر آپ ایک ہی انداز میں بیٹھے یا کھڑے رہیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ گردن میں اکڑن یا بے آرامی محسوس ہو۔
آپ نے لوگوں کو اسے “ٹیک نیک” یا “ٹیکسٹ نیک” کہتے ہوئے بھی سنا ہو گا۔ یہ مقبول اصطلاحات ہیں جو اسکرین کی طرف جھک کر دیکھنے سے ہونے والی گردن کی تکلیف کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں ہے اور گردن میں درد کی وجہ صرف موبائل فون کا استعمال ہی نہیں ہوتا۔ آپ کی روزمرہ سرگرمیاں، نیند، ذہنی دباؤ اور صحت کے دیگر عوامل بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
موبائل فون استعمال کرنے سے کن حالات میں گردن میں تکلیف ہو سکتی ہے؟
ذرا سوچیں کہ آپ دن میں کتنی بار فون دیکھنے کے لیے سر جھکاتے ہیں۔ کبھی پیغامات کا جواب دیتے ہوئے، کبھی کوئی مضمون پڑھتے ہوئے اور کبھی ویڈیو دیکھتے ہوئے۔ اگر آپ کافی دیر تک سر ایک ہی پوزیشن میں جھکائے رکھیں تو گردن کے پٹھے تھک سکتے ہیں۔
بستر پر لیٹ کر فون استعمال کرتے ہوئے اس عادت پر توجہ دینا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ فون کو نیچے رکھ کر دیکھتے رہیں، گردن کو کافی دیر تک جھکائے رکھیں یا اسکرول کرتے ہوئے ایک ہی پوزیشن میں رہیں۔ اگر آپ اکثر سونے سے پہلے فون استعمال کرتے ہیں تو اس دوران اپنی گردن کی پوزیشن پر بھی توجہ دیں۔ اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارا مضمون رات کو بار بار آنکھ کیوں کھل جاتی ہے؟ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
ایک اور عادت فون پر بات کرتے ہوئے اسے کان اور کندھے کے درمیان دبانا ہے۔ اس طرح گردن ایک طرف جھکی رہتی ہے، خاص طور پر جب آپ کام کرتے ہوئے یا ادھر اُدھر چلتے ہوئے اسی انداز میں بات کرتے رہتے ہیں۔ جہاں ممکن ہو، ہیڈفون یا اسپیکر استعمال کرنے سے گردن کو ایک طرف جھکانے سے بچا جا سکتا ہے۔
کبھی مسئلہ صرف فون استعمال کرنے کے دورانیے کا بھی ہوتا ہے۔ آپ چند منٹ کے لیے پیغامات دیکھنے بیٹھتے ہیں، لیکن پتا ہی نہیں چلتا کہ کافی وقت گزر گیا ہے۔
گردن کو آرام دینے میں مددگار روزمرہ کی آسان عادتیں
آپ کو فون استعمال کرنا چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس اسے استعمال کرنے کے انداز میں چند چھوٹی تبدیلیاں آپ کے لیے روزمرہ زندگی کو زیادہ آرام دہ بنا سکتی ہیں۔
کوشش کریں کہ سر زیادہ جھکانے کے بجائے فون کو آنکھوں کی سطح کے قریب رکھیں۔ اپنے کندھوں کو ڈھیلا اور آرام دہ رکھیں اور بازوؤں کو ایسی پوزیشن میں زیادہ دیر نہ رکھیں جس سے بے آرامی ہو۔ ہر وقت ایک ہی بہترین پوزیشن برقرار رکھنا ضروری نہیں؛ وقتاً فوقتاً اپنی پوزیشن تبدیل کرنا بھی اہم ہے۔
جب آپ کافی دیر تک فون استعمال کر رہے ہوں تو اپنی گردن اور کندھوں کو بھی کچھ آرام دیں۔ فون ایک طرف رکھیں، اسکرین سے نظریں ہٹائیں، کھڑے ہوں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ اس طرح آپ زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہی بات میز پر بیٹھ کر کام کرنے والوں کے لیے بھی اہم ہے۔ اس موضوع پر مزید جاننے کے لیے ہمارا مضمون زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد کمر میں درد کیوں ہوتا ہے؟ پڑھ سکتے ہیں۔
بستر پر فون استعمال کرنے کے انداز پر بھی توجہ دیں۔ اگر آپ کو گردن میں بے آرامی محسوس ہو تو اپنی پوزیشن تبدیل کریں یا فون ایک طرف رکھ دیں۔ اسی طرح فون پر بات کرتے ہوئے اسے کان اور کندھے کے درمیان دبانے سے گریز کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی عادتوں کو پہچانیں، لیکن خود پر سختی نہ کریں۔ آپ کو ایک ہی دن میں سب کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی سے آغاز کریں اور دیکھیں کہ آپ کو کس انداز میں زیادہ آرام محسوس ہوتا ہے۔
گردن کے درد کو کب سنجیدگی سے لینا چاہیے؟
موبائل فون استعمال کرنے کے بعد گردن میں ہونے والی تکلیف بعض اوقات پوزیشن تبدیل کرنے اور کچھ دیر آرام کرنے سے کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر درد بار بار ہو، بڑھتا جائے یا آپ کی نیند اور روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرنے لگے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔
اگر گردن کے درد کے ساتھ بازو یا ہاتھ میں سن ہونا، جھنجھناہٹ یا کمزوری محسوس ہو تو ڈاکٹر سے طبی مشورہ ضرور لیں۔ کسی بڑی چوٹ یا گرنے کے بعد ہونے والا درد، یا گردن کے درد کے ساتھ بخار یا شدید سر درد بھی فوری طبی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت کا ماہر معائنہ کرکے درد کی ممکنہ وجہ جاننے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں صحت مند عادتیں اپنانے کے لیے رہنمائی چاہتے ہیں تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں تاکہ آپ اپنی زندگی کے مطابق آسان اور عملی تبدیلیاں اپنا سکیں۔ میری ہیلتھ اینڈ ویلنیس کوچنگ کی خدمات کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔
کوچنگ کے ذریعے طبی مسائل کی تشخیص یا علاج نہیں کیا جاتا، البتہ مناسب طبی رہنمائی کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی کی عادتیں اپنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
موبائل فون استعمال کرنے سے گردن میں درد کیوں ہوتا ہے؟
کافی دیر تک فون دیکھنے کے لیے سر جھکائے رکھنے سے گردن کے پٹھوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے پٹھوں میں تھکاوٹ، اکڑن یا بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔
فون کی طرف سر جھکانے کے بعد گردن میں درد کیوں ہوتا ہے؟
کافی دیر تک گردن آگے کی طرف جھکائے رکھنے سے سر کو سہارا دینے والے پٹھوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ وقفے لینا اور اپنی پوزیشن تبدیل کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا بستر پر لیٹ کر فون استعمال کرنے سے گردن میں درد ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر آپ فون کو نیچے کی طرف پکڑ کر دیکھتے ہیں یا اسکرول کرتے ہوئے گردن کو غیر آرام دہ پوزیشن میں رکھتے ہیں تو اس سے تکلیف ہو سکتی ہے۔ اگر گردن میں بے آرامی محسوس ہو تو اپنی پوزیشن تبدیل کریں یا فون ایک طرف رکھ دیں۔
فون کو کان اور کندھے کے درمیان دبا کر بات کرنے سے گردن میں درد کیوں ہوتا ہے؟
فون کو کان اور کندھے کے درمیان دبانے سے گردن ایک طرف جھک جاتی ہے۔ خاص طور پر زیادہ دیر تک اس انداز میں بات کرنے سے پٹھوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور درد یا بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔
تحریر: شمیم اختر
سرٹیفائیڈ ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ
.پبلک ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ لائف اسٹائل میڈیسن پروفیشنل

