کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کچھ دیر اپنی میز پر بیٹھ کر کام کریں اور اٹھتے وقت کمر میں درد محسوس ہو؟ شاید کمپیوٹر پر کام کرنے، کسی طویل میٹنگ میں بیٹھنے یا صوفے پر آرام کرنے کے بعد آپ کو کمر میں بے آرامی محسوس ہوتی ہو۔
زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد کمر میں درد ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ بعض لوگوں کو طویل وقت بیٹھنے کے بعد تکلیف ہوتی ہے، جبکہ کچھ افراد کو تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد بھی درد محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، اور اپنی روزمرہ عادتوں پر توجہ دینے سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کون سی چیز اس تکلیف کا سبب بن رہی ہے۔
آئیے، کمر میں درد کی کچھ عام وجوہات اور اس کا خیال رکھنے کے آسان طریقوں پر بات کرتے ہیں۔
زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد کمر میں درد کیوں ہوتا ہے؟
طویل وقت تک بیٹھے رہنے سے کمر میں اکڑن یا بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب آپ کو اپنی پوزیشن بدلنے کے زیادہ مواقع نہ ملیں۔ کمر کے پٹھے جسم کو سہارا دینے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر رہنے سے یہ پٹھے تھکاوٹ یا کھنچاؤ محسوس کر سکتے ہیں۔
آپ کے بیٹھنے کا انداز بھی اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر کی طرف جھک کر کام کرنا، کرسی پر کمر کو ڈھیلا چھوڑ کر بیٹھنا یا کمر کو مناسب سہارا نہ ملنا تکلیف بڑھا سکتا ہے۔
روزمرہ زندگی کی دوسری باتیں، مثلاً جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ یا نیند پوری نہ ہونا بھی اس بات پر اثر ڈال سکتے ہیں کہ آپ کا جسم کیسا محسوس کرتا ہے۔ تاہم، کمر کے درد کی ہمیشہ کوئی ایک واضح وجہ نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر بار ہونے والے درد کو صرف غلط انداز میں بیٹھنے یا بیٹھے رہنے سے منسوب کرنا درست نہیں۔
زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد کمر میں درد عموماً کب ہوتا ہے؟
ہر شخص کو کمر میں درد ایک جیسا محسوس نہیں ہوتا۔ درد کب شروع ہوتا ہے، اس پر توجہ دینے سے آپ کو اپنی روزمرہ روٹین میں کچھ اہم باتیں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد میز پر کام کرنے، سفر کرنے یا طویل وقت تک ٹیلی ویژن دیکھنے کے بعد کمر میں اکڑن یا درد محسوس ہو سکتا ہے۔
کرسی پر بیٹھتے وقت غیر آرام دہ کرسی، کمر کو مناسب سہارا نہ ملنا یا ایسی پوزیشن میں بیٹھنا جو جسم کے لیے موزوں نہ ہو، تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے وقت کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد کھڑے ہوتے وقت کمر اکڑی ہوئی محسوس ہو سکتی ہے۔ غور کریں کہ حرکت شروع کرنے کے بعد یہ تکلیف کم ہوتی ہے یا نہیں۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اگر تھوڑی دیر بیٹھنے سے بھی کمر میں درد ہونے لگے تو اس پر توجہ دیں۔ یہ فرض نہ کریں کہ مسئلہ صرف بہتر کرسی استعمال کرنے سے حل ہو جائے گا۔
یہ علامات اور انداز آپ کو کچھ اشارے دے سکتے ہیں، لیکن ان سے درد کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
کمر کی دیکھ بھال کے لیے روزمرہ کی آسان عادتیں
اپنی روزمرہ روٹین میں چھوٹی تبدیلیاں لا کر آپ زیادہ آرام سے بیٹھ سکتے ہیں اور ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر رہنے سے بچ سکتے ہیں۔
وقفے وقفے سے اٹھیں اور حرکت کریں
اگر آپ میز پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو دن کے دوران باقاعدگی سے اٹھیں اور تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ مختصر وقفے بھی آپ کو گھنٹوں مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے اپنی پوزیشن بدلنے کا موقع دیتے ہیں۔
بیٹھنے کی جگہ کو آرام دہ بنائیں
ایسی کرسی کا انتخاب کریں جو آپ کی کمر کو آرام دہ سہارا دے۔ پاؤں کو مناسب سہارا دیں، اسکرین کو ایسی اونچائی پر رکھیں جو دیکھنے میں آرام دہ ہو، اور زیادہ دیر تک آگے جھک کر بیٹھنے سے بچیں۔ بیٹھنے کا کوئی ایک انداز ہر شخص کے لیے بہترین نہیں ہوتا، اس لیے وقتاً فوقتاً اپنی پوزیشن بدلنا بھی مفید ہے۔
روزمرہ زندگی میں جسمانی حرکت شامل کریں
پیدل چلنا اور اپنی استطاعت کے مطابق دوسری سرگرمیاں آپ کو سارا دن بیٹھے رہنے والی روٹین سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اگر آپ باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی نہیں کرتے تو آہستہ آغاز کریں، اور ایسی حرکت زبردستی نہ کریں جس سے درد بڑھ جائے۔ باقاعدہ حرکت پٹھوں کی مجموعی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ آپ ہمارے مضمون پٹھوں میں کھنچاؤ کیوں ہوتا ہے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔
اپنی مجموعی روزمرہ روٹین پر توجہ دیں
ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور طویل اوقات تک کام کرنا آپ کی مجموعی صحت اور طبیعت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے تو غور کریں کہ کیا آپ کی روزمرہ روٹین میں مسلسل بیٹھے رہنا، اسکرین کا زیادہ استعمال یا مناسب وقفوں کی کمی شامل ہے۔
کمر کے درد پر کب زیادہ توجہ دینی چاہیے؟
کبھی کبھار ہونے والی کمر کی تکلیف روزمرہ عادتوں میں تبدیلی سے بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر درد برقرار رہے، بار بار واپس آئے یا بڑھتا جائے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب اس سے نیند یا روزمرہ کے کام متاثر ہوں۔
اگر کمر کے درد کے ساتھ ٹانگوں میں نئی یا بڑھتی ہوئی کمزوری، شرم گاہ یا کولہوں کے درمیان والے حصے میں سن ہونا، یا پیشاب اور پاخانے پر قابو رکھنے میں دشواری ہو تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ بخار کے ساتھ کمر میں درد ہونا یا کسی بڑی چوٹ یا گرنے کے بعد درد شروع ہونا بھی فوری طبی معائنے کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ فرض نہ کریں کہ کمر میں ہونے والا ہر درد بیٹھنے کی وجہ سے ہے۔ اگر تکلیف بار بار ہو، تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد بھی شروع ہو جائے یا بہتر نہ ہو تو صحت کا ماہر اس کی ممکنہ وجہ جانچنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ہیلتھ اینڈ ویلنیس کوچ کے طور پر، میں لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہوں کہ ان کی روزمرہ عادتیں ان کی صحت اور مجموعی بہتری پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں، اور وہ اپنی زندگی میں صحت مند عادتیں کیسے اپنا سکتے ہیں۔
ذاتی رہنمائی کے ذریعے آپ ان عادتوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور اپنی روزمرہ زندگی کے مطابق چھوٹی مگر دیرپا تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
کوچنگ کا مقصد طرزِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دینا ہے، نہ کہ کمر کے درد کی تشخیص کرنا یا اس کا طبی علاج کرنا۔ اگر درد برقرار رہے یا شدید ہو تو صحت کے ماہر سے مشورہ کریں۔
❓اکثر پوچھے جانے والے سوالات
زیادہ دیر بیٹھنے سے کمر میں اکڑن کیوں ہو جاتی ہے؟
ایک ہی پوزیشن میں طویل وقت تک بیٹھنے سے کمر کے پٹھوں میں تھکاوٹ یا اکڑن محسوس ہو سکتی ہے۔ درمیان میں اٹھ کر چلنا اور اپنی بیٹھنے کی پوزیشن بدلنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا غلط کرسی پر بیٹھنے سے کمر میں درد ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر کرسی آرام دہ نہ ہو یا کمر کو مناسب سہارا نہ ملے تو تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ ایسی کرسی کا انتخاب کریں جس پر آپ آرام سے بیٹھ سکیں، اور زیادہ دیر ایک ہی پوزیشن میں نہ رہیں۔
بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے وقت کمر میں درد کیوں ہوتا ہے؟
کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد کمر میں اکڑن محسوس ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے کھڑے ہوتے وقت تکلیف ہو سکتی ہے۔ اگر یہ درد بار بار ہو یا برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد کمر میں درد ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
توجہ دیں کہ درد کب شروع ہوتا ہے، کتنی دیر رہتا ہے اور کیا اس کے ساتھ کوئی دوسری علامت بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ مسلسل ہو، بڑھتا جائے یا روزمرہ کے کام متاثر کرے تو صحت کے ماہر سے مشورہ لیں۔
تحریر: شمیم اختر
سرٹیفائیڈ ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ
.پبلک ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ لائف اسٹائل میڈیسن پروفیشنل

