ایک خاتون کھڑکی کے پاس بیٹھی ذہنی دباؤ اور تھکن محسوس کر رہی ہے

ذہنی دباؤ آپ کے جسم کو کیسے متاثر کرتا ہے

ایک وقت تھا جب میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتی تھی
“بس تھوڑا سا اسٹریس ہے، یہ تو نارمل ہے۔”
اور واقعی شروع میں یہ معمولی ہی لگتا ہے۔
مصروف دن۔
زیادہ ذمہ داریاں۔
ایک ایسا ذہن جو کبھی مکمل طور پر آرام نہیں کرتا۔
لیکن وقت کے ساتھ میں نے ایک بات محسوس کی۔
اسٹریس صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا،
یہ آہستہ آہستہ جسم میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
میں نے ایسے بہت سے افراد دیکھے ہیں جو سمجھتے تھے کہ وہ سب کچھ ٹھیک سنبھال رہے ہیں،
لیکن ان کا جسم کچھ اور ہی بتا رہا ہوتا تھا۔
بلا وجہ تھکن۔
نیند پوری ہونے کے باوجود تازگی نہ ہونا۔
ہاضمہ درست نہ رہنا۔
اور ایک عجیب سا احساس کہ “سب ٹھیک نہیں ہے۔”
نہ اتنا مسئلہ کہ پریشان ہوں،
اور نہ اتنا سکون کہ مطمئن رہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں اکثر لوگ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسٹریس جسم میں کیا کرتا ہے

اسٹریس صرف ایک احساس نہیں ہے،
یہ پورے جسم پر اثر ڈالتا ہے۔
جب ذہن دباؤ محسوس کرتا ہے، تو جسم فوراً ردعمل دیتا ہے۔
سانس ہلکی ہو جاتی ہے۔
پٹھوں میں تناؤ آ جاتا ہے۔
ہاضمہ سست ہو جاتا ہے۔
توانائی کا لیول اوپر نیچے ہونے لگتا ہے۔
شروع میں یہ سب عارضی ہوتا ہے۔
لیکن جب یہی کیفیت روزمرہ کا حصہ بن جائے،
تو جسم اسے نارمل سمجھنے لگتا ہے۔
اور پھر جسم تیز اشارے دینے کے بجائے
آہستہ آہستہ بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ہلکی تھکن۔
چڑچڑاہٹ۔
کھانے کے بعد بوجھل پن۔
یہ سب بے وجہ نہیں ہوتا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسلسل تھکن صرف آرام کی کمی نہیں،
بلکہ جسم پر موجود دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے تو آپ
کیوں آپ آرام کے باوجود بھی تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں
کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں، جہاں یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔

یہ آہستہ آہستہ کیوں بڑھتا ہے

اسٹریس کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ
یہ ایک دم سے نہیں آتا۔
یہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔
کبھی دیر سے سونا۔
کبھی کھانا چھوڑ دینا۔
ہر وقت سوچتے رہنا۔
دن میں کوئی حقیقی وقفہ نہ لینا۔
یہ سب الگ الگ دیکھیں تو معمولی لگتے ہیں۔
لیکن جب یہ سب اکٹھے ہو جائیں،
تو جسم پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اور جسم مسلسل خود کو ایڈجسٹ کرتا رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں اکثر کہتی ہوں
جسم اچانک خراب نہیں ہوتا،
یہ آہستہ آہستہ سہارا نہ ملنے کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے۔

جسم کو سہارا دینے کے آسان طریقے

اچھی بات یہ ہے کہ جسم کو ٹھیک کرنے کے لیے
بڑی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
چھوٹے اور مستقل قدم زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
میں عام طور پر یہی مشورہ دیتی ہوں
دن میں چند منٹ کے لیے رک کر گہری سانس لیں۔
خود کو بغیر رکے مسلسل کام کرنے پر مجبور نہ کریں۔
کھانے کے اوقات کو بہتر بنائیں۔
کچھ دیر کے لیے باہر نکل کر تازہ ہوا لیں۔
یہ چھوٹی چیزیں ہیں،
لیکن یہی جسم کو سکون دیتی ہیں۔
اور جب جسم کو سکون ملتا ہے،
تو دباؤ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اسی لیے صحت مند طرزِ زندگی اور روزمرہ عادات پر توجہ دینا ضروری ہے،
کیونکہ جب روٹین بہتر ہوتی ہے تو جسم کو اضافی دباؤ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔

ایک یاد دہانی

اسٹریس ہمیشہ ختم نہیں کیا جا سکتا،
لیکن اسے سنبھالنا سیکھا جا سکتا ہے۔
آپ کا جسم آپ کے خلاف نہیں ہے،
بلکہ وہ آپ کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر آپ خود کو مسلسل تھکا ہوا، پریشان یا غیر متوازن محسوس کرتے ہیں،
تو شاید اب وقت ہے رک کر اپنے جسم کو سننے کا۔
اور اگر آپ کو رہنمائی کی ضرورت ہو،
تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔
کبھی کبھی چھوٹی سی سمت درست کرنا
بڑی تبدیلی کی شروعات بن جاتی ہے۔


تحریر: شمیم اختر
سرٹیفائیڈ ہیلتھ اینڈ ویلنَس کوچ
پبلک ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ لائف اسٹائل میڈیسن پروفیشنل